Wednesday, August 12, 2020

کمال پورہ کے کمالات- قسط نمبر ۲: قانون کی پابندی

کمال پورہ کے کمالات

قسط نمبر ۲قانون کی پابندی

شیربازعلی خان

قانون کی عملداری اور قانون پر عمل درآمد کی ایسی انہونی مثالیں کمال پورہ میں موجود ہیں کہ قانون خود بھی حیران و پریشان عملداری کا منہ تکتے رہ جاتا ہے۔ دوسرے معاشروں میں تو یہ ہوتا ہے کہ قانون بس قانون ہے اور اطلاق کے معاملے میں نہ اونچ دیکھنا ہے نہ نیچ.  قانون کے دائرے میں رہ کر ہی سب کا بھلا اور سب کا سکوں ہے اور یہ کہ قانون کی پابندی نہ کرنا جرم ہے۔ جرم نہ صرف قابلِ سزا ہے بلکہ معاشرے میں ناپسندیدہ عمل بھی ہے. ان معاشروں میں قانون کی پابندی کی وجہ صرف یہ نہیں کہ قانون سے انحراف قابلِ جرم ہے بلکہ لوگوں کونہ صرف اپنے ذمہ داریوں اور حقوق کا احساس ہے بلکہ دوسروں کے حقوق کا بھی ادراک ہے۔ جہاں ذمہ داریوں اور حقوق کا احساس موجود ہووہاں قانون کی پابندی لوگوں کی عادات کا حصّہ بن جاتا ہے جس کا مظاہرہ روزمرّہ کے انفرادی معاملات سے لیکر اجتماعی معاملات تک ہر جگہ نظر آتا ہے۔

 قانون پر عملدرآمد کے لحاظ سے کمال پورہ کے ڈھنگ ہی نرالے ہیں۔ اس بستی کے باسی قانون پر عمل کو کمزوری سے تعبیر کرتے ہیں۔ قانون شکنی کو بہادری، قانون شکن کو بہادر اور بڑے قانون شکن کو بڑے بہادر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ بہادر اور بڑے بہادر کو یہ اعزاز حاصل ہوتا ہے کہ لوگ ان کے آداب بجالاتے ہیں اور اپنے چھوٹے موٹے قانون شکنی کے کاموں میں ان کی حمایت کو ضروری سمجھتے ہیں۔

ایسے حالات میں قانون کب تک عملداری کی فکر میں نالاں رہتا، لہٰذا اس نے بھی لوگوں کے رنگ میں رنگنا سیکھ لیا ۔ اس سللے میں اہم قدم کے طور پر قانون نے اندھا ہونے کا فیصلہ ترک کرکے نظر کا چشمہ لگالیا.  قانون کی افادیت تب تک ہے کب تک اس کا اندھاپن برقرار رہے، جونہی قانون دیکھنا شروع کرتا ہے معاشرہ اندھاپن کی طرف چلا جاتا ہے۔  پھر وہی ہوتا ہے جس کا ڈر رہتا ہے۔ ۔ 

نظر کا چشمہ لگانے سے قانون کو تین طرح کی صورتحال نظر آئے۔ ایک صورتحال یہ تھی کہ کچھ لوگ ایسے تھے جو قانون سے بالاتر تھے، ان لوگوں کے معاملے میں قانون نے خود کو قابلِ عمل سمجھنا چھوڑ دیا۔ دوسرا طبقہ وہ تھا جن کو قانون سے بالاتر افراد کے حمایت اور پشت پناہی حاصل تھی، لہٰذا ان کے معاملے میں قانون کو بیچ کا راستہ نکالنا تھا یعنی کبھی ان کی مانو، اور کبھی اپنا منواوٗ۔ تیسرے وہ لوگ تھے جو نہ خود طاقتور اور قانون سے بالاتر تھے اور نہ ہی ان کو قانون سے بالاتر افراد کی پشت پناہی حاصل تھی۔ یہی وہ لوگ تھے جن پر قانون کا اطلاق ہونا تھا اور قانون نے اپنے نشانے کو ٹھیک طرح سے پہچان لیا ۔

ان تمام معاملات میں قانون کو اس بات کا بھی ادراک تھا کہ اسے بنانے والے بھی وہی لوگ ہیں جو اس سے بالاتر ہیں اور عافیت اسی میں ہے کہ بالاتر سے نہ الجھا جائے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ مسلّہ بھی درپیش رہا کہ قانون کا مقصد تو یکساں نفاذ ہے، اور ایسے جال کے طور پر کام کرنا ہے جو کہ اپنے دائرہٗ اختیار کے طول و عرض میں یکساں بچھے۔   اگر یکساں نہ رہے تو جنگل کا قانون کہلائے گا۔ اس مرحلے پر جوںاتھن سِویفٹ کا تعریفِ قانون معاون ثابت ہوا جس کے مطابق قانون مکڑی کے جال کی طرح ہے جس میں چھوٹے کیڑے مکوڑے پھس جاتے ہیں،جبکہ بڑے کیڑے اس کو توڑ کر نکل جاتے ہیں۔ چنانچہ کمال پورہ میں اس تعریف کو رائج الوقت کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

===================================================================== 

Monday, August 10, 2020

غزل

غزل

از شیربازعلی خان


تنہائی اور خلا ہے یہاں ترے جا نے سے

یادوں کا سلسلہ ہے رواں ترے جا نے سے


میں یہ سمجھ رہا تھا تجھے بھول جاوٗں گا

اٹھا ہے دل میں دردِنہاں ترے جانے سے


جب تو رہا قریب تو احساس تک نہ تھا

دنیا یہ لگ رہی ہے ویراں ترے جانے سے


یہ خود فریبی تھی کہ میں بن ترے جی سکوں

روٹھا ہوا ہے سارا جہاں ترے جانے سے


منظر حسین پہلے سے مجھ کو نہ بھایئں اب

وقتِ بہار آئی خزاں ترے جانے سے


تم دور جو ہوئے تو محبت ہے جاگ اٹھی

یہ سب ہوا ہے مجھ پہ عیاں ترے جانے سے

=================================================== 

Saturday, August 8, 2020

کمال پورہ کے کمالات

معزّز قارئین

اس صفحہ پر کئی قسطوں پر محیط ’کمال پورہ کے کمالات‘ پیشِ خدمت ہے! اس سلسلے کے مختلف اقساط وقفے وقفے سے ہیش کی جائنگی۔ اب تک کی اقساط نیچے دئیے گئے لنکس پر پڑھے جا سکتے ہیں 

1: http://eexplorer-sba.blogspot.com/2020/07/blog-post_89.html

2: https://eexplorer-sba.blogspot.com/2020/08/blog-post_12.html

3:  https://eexplorer-sba.blogspot.com/2020/08/blog-post_25.html


Friday, August 7, 2020

غزل

 

غزل

از شیربازعلی خان

 

پھولوں کے درمیان ہو جیسے کوئی گلاب

دلکش حسین رنگوں میں تو حسنِ لاجواب

 

چھائی بہار تم سے ہے موسم کوئی بھی ہو

رونق جہاں میں جس کے سبب وہ تیرا شباب

 

آنکھوں کی روشنی میں ترے کہکشاں کے رنگ

روشن جبیں ایسا، لگے ماند ماہتاب

 

زلفوں کے پھیلنے سے چلے بادل اور ہوا

بادِصبا بھی در سے ترے گزرے با آداب

 

نظارہٗ چمن میں نہیں کچھ تمھارے بن

جلوے ہیں بکھرےتم سے، اور تم سے آب و تاب

 

صد آفرین کمالِ مصوّر کے شاہکار

زندہ مثال اس کی تو جو ایک انمول خواب


Great Quotes - 002

Great Quotes - 002

v Remember, people will judge you by your actions, and not by your intentions. You may have a heart of gold, but so does a hard-boiled egg. (Anon)

v It is not fair to ask of others what you are not willing to do yourself. (Elenore Roosevelt)

v No man is ever old enough to know better. (Holbrook Jackson)

v Those who stand for nothing fall for anything. (Alexander Hamilton)

v Don’t let life discourage you, everyone who got where he is had to begin where he was. (Richard L. Evans)

v The whole world steps aside for the man who know where he is going. (Anon)

v We can try to avoid making choices by doing nothing, but even that is a decision. (Gary Collins)

v The greater the difficulty, the more glory surmounting it. (Epicure)

v You get the best out of others when you give the best to others. (Harry Firestone)

v The hardest you work, the luckier you got. (Mc Alexander)

v Pray as if everything depended on God and work as if everything depended upon man. (Francis Cordinal)

v Nobody holds a good opinion of a man who has a low opinion of himself. (Anthony Trollop)

v Three foundations of learning are: seeing much, suffering much and studying much. (Catherall)

v Reason and judgement are the qualities of a leader. (Tacitus)

v A blow with a word strikes deeper than a blow with a sword. (Robert Burton)

v Laugh and the world laughs with you, weep and you weep alone; for the sad old earth must borrow its mirth, but has trouble enough of its own. (Ella Wheeler Wincox)

Wednesday, August 5, 2020

Why CEOs need to read poetry

Why CEOs need to read poetry- yes, poetry- to lead in the post-COVID world


BY CLARE MORGAN AND MASSIMO PORTINCASO
Published on Fast Company 


Link to the Article: 


Saturday, August 1, 2020

More Insights into SWOT Analysis

You know that SWOT is very popular as a strategic planning technique, and conducting it effectively can result in more relevant information and data. 

Shelly Palmer's article in the link below provides expert opinion on the subject:

ایک آرزو

  ایک آرزو   شیربازعلی خان   دینا میں بہتری کی یہ چھوٹی سی خواہش ملاحظہ ہو ہرایک کی ترجیح وہ پہلی ٹھرے، جو انسانیت کا معاملہ ہو  جہاں سے غر...